بنگلورو۔21؍دسمبر(ایس او نیوز) سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے کانگریس کے مطالبے کو دہرایا ہے کہ رافیل معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے جانچ کرائی جانی چاہئے، آج شہر کے کے پی سی سی دفتر میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چدمبرم نے کہاکہ رافیل معاملے سے جڑے آٹھ اہم نکات کو تحقیقات کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ دسمبر 2012 میں یو پی اے حکومت نے رافیل جنگی طیاروں کی خریدی کے لئے فرانس کے ساتھ معاہدہ کیا ، اس معاہدے کے تحت 526.10 کروڑ روپیوں کے حساب سے 126 رافیل طیارے خریدنا طے تھا۔ ان میں سے 18 طیارے راست طور پر فرانس سے ہندوستان کو مہیا کرائے جانے تھے اور باقی 108 طیاروں کی تکمیل ہندوستانی پبلک سیکٹر کمپنی ایچ اے ایل میں ہونی چاہئے تھی، لیکن وزیر اعظم مودی کی حکومت نے 10 اپریل 2015 کو فرانس کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا۔ چدمبرم نے سوال کیا ہے کہ پرانے معاہدے کا کیا ہوا۔
انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومت نے 126 طیاروں کی خریداری کا فیصلہ کیا تھا، اور دفاعی ایجنسیوں نے مرکزی حکومت کو یہی بتایاتھاکہ اتنے طیاروں کی ضرورت ہے تو پھر مودی حکومت نے صرف 36طیاروں کی خریداری کا فیصلہ کیوں کیا اور ان طیاروں کی قیمت 526 کروڑ سے بڑھ کر 1670کروڑ کیوں کر ہوگئی؟۔ ان طیاروں کی نئی قیمتوں کا انکشاف طیارے بنانے والی کمپنی ڈسالٹ نے کیا ہے۔ مرکزی حکومت کو بتانا ہوگا کہ واقعی اتنی قیمت ادا کرکے یہ طیارے خریدے جارہے ہیں۔ اگر اتنی رقم دی جارہی ہے تو قیمت میں اس قدر اضافے کا جواز کیا ہے؟
چدمبرم نے یہ بھی سوال کیا ہے کہ 126 طیاروں کی بجائے صرف 36 طیاروں پر اکتفا کیوں کیاجارہا ہے۔ طیاروں کی پہلی قسط ہندو ستان کوستمبر 2019 سے پہلے ملنے والی نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے 2015میں معاہدہ کیا تو طیارے فراہم کرنے کے لئے چار سال کا عرصہ کیوں لگ رہا ہے،ان چار سالوں میں اگر کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوجاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا۔ معاہدے میں ہنگامی حالات سے نپٹنے کے لئے دونوں طرف سے کیا اقدامات کئے گئے ہیں ان کا تذکرہ کیوں نہیں کیاگیا۔ رافیل طیارے کی تکمیل کے لئے سابقہ حکومت نے فرانس سے ایچ اے ایل کو ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے لئے جو معاہدہ کیاتھا مرکزی حکومت نے کن وجوہات پر یہ معاہدہ منسوخ کیا۔
چدمبرم نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت نے جہاں ایک ناتجربہ کار کمپنی کو رافیل طیارے کی تیاری کا ٹھیکہ دینے کو ترجیح دی تو کیا مرکزی حکومت کی نظر میں طیارہ سازی کا 70 سالہ طویل تجربہ رکھنے والی ایچ اے ایل کی کوئی وقعت نہیں ہے یا پھر ایسا طیارہ بنانے کی اہلیت تجربے کار کمپنی کے پاس نہیں اور ناتجربہ کار کمپنی کے پاس ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایچ اے ایل کو رافیل سے دور کرکے ایک نجی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کا سبب کیا ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت سے اس طرح کے اور بھی بہت سارے سوال کئے جائیں گے اور اسے سودے کے تمام حقائق عوام کے سامنے لانے ہوں گے بصورت دیگر کانگریس خود اس سودے میں ہوئی تمام دھاندلیوں کو عوام کے سامنے پیش کرے گی۔